جان وفا کے نام کا جب قافیہ لیا
*✍🏻۔۔۔۔قافیہ پیمائی۔۔۔۔📃*
ذوقِ سخن کے مصرعِ طرح پر
بتاریخ 🗓️ 6' فروری 2022ء
*جانِ وفا کے نام کا جب قافیہ لیا*
*لوگوں نے میرے شعر کو سر پر اٹھا لیا*
*جب دورِ خوشگوار میں خوشیاں نہیں ملیں*
*رنج و الم کو تن کا لبادہ بنا لیا*
*وحشت سی دل کو ہونے لگی گلستان سے*
*پھر یوں ہوا کہ دشت کو دل میں بسا لیا*
*جب حد سے آگے بڑھ گیا زخموں کا اضطراب*
*ہم نے تمہاری یاد کا مرہم لگا لیا*
*ظلمت سے کائنات عجب مخمصے میں ہے*
*"سورج ہمارے شہر کا کس نے چرا لیا"*
*سوغات بٹ رہی تھی سرِ رہگزار زیست*
*ہم نے تمہاری یاد کو دل سے لگا لیا*
*صد حیف کاروانِ رہِ پاکباز نے*
*تہذیبِ بے نقاب کو اُسوہ بنا لیا*
*کیونکر پسند آئے گی تم کو ہماری بات*
*خیمہ تمہارے دل میں حسد نے لگا لیا*
*نادر تمہارا ذوقِ سخن بھی کمال ہے*
*دنیا نے تم کو پڑھ کے نیا زاویہ لیا*
*✍🏻 ۔۔۔نادر بھوپالی ۔۔۔📚*
Reyaan
17-Apr-2022 09:48 PM
Very nice 👍🏼
Reply
Renu
16-Apr-2022 12:00 PM
بہت خوب
Reply
Gunjan Kamal
16-Apr-2022 11:18 AM
Very nice 👌
Reply